24 جولائی 2026 - 23:59
ایران کا پیغام خطے کی اقوام کے نام؛ قبضے کو معمول نہ بننے دیں + دوزبانوں میں

پیغام میں کہا گیا ہے: "ہم آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتے ہیں، لیکن اپنا قانونی، شرعی اور منطقی حق سمجھتے ہیں کہ امریکی اڈوں کو ـ جو ہمارے ملک پر حملوں کا ذریعہ ہے ـ نشانہ بنا دیں۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا بیان نمبر 45 آپریشن نصر 2 کے بیان نمبر سابقہ دو بیانات کا تسلسل ہے جس میں اردنی اور کویتی عوام کے ساتھ ساتھ خطے کی اقوام کو مورد خطاب قرار دیا گیا ہے۔

اس بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ایران "عوام" اور "غیر ملکی فوجی اڈوں" کے درمیان فرق کا قائل ہے اور عوام یا ممالک کی حکومتوں کو اپنا نشانہ نہیں سمجھتا، بلکہ ان مراکز کو نشانہ بناتا ہے جو ایران پر حملے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

یہ پیغام ایک بنیادی سوال بھی اٹھاتا ہے اور وہ یہ کہ کیا وہ ملک آزاد اور خودمختار کہلوانے کا حق رکھتا ہے جس کی سرزمین کا ایک حصہ غیر ملکی افواج کے قبضے میں ہو اور اسی سرزمین سے دوسری قوموں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں؟

خطے کے عوام کے لئے اس بیان کا پیغام واضح ہے اور وہ یہ ہے: حقیقی خودمختاری کا تحفظ، سرزمینوں کو غیر ملکی طاقتوں کے اڈوں میں تبدیل ہونے سے بچانے اور قومی خودمختاری کا مطالبہ کرنے، خطے میں جنگ اور عدم تحفظ کے پھیلاؤ کو روکنے سے ممکن ہوجاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عربی میں:

البيان رقم 45:

 رسالة هامة من الحرس الثوري الإيراني إلى الشعب الأردني؛ من حقنا القانوني والديني والمنطقي استهداف القاعدة الأمريكية التي تُعدّ مصدر العدوان على بلادنا.

 العلاقات العامة للحرس الثوري الإيراني:

الشعب الأردني الكريم والنبيل؛

• إخوانكم المجاهدون في الحرس الثوري الإسلامي، عقابًا للجيش الأمريكي الذي يقتل الأطفال، وردًا على العدوان المتكرر على أراضي الجمهورية الإسلامية الإيرانية، دمّروا رادارًا لمنظومة الدفاع الصاروخي الأمريكية "ثاد" بضربات خاطفة على قواعد أمريكية.

• كما تم استهداف وتدمير منظومة "باتريوت" ورادار "سي-رام"، وأُضرمت النيران في خزانات وقود هذه القاعدة الأمريكية.

• كما أُضرمت النيران في مستودع كبير لمعدات المروحيات وورشة صيانة وإصلاح المروحيات، وتم تدميرهما.

• يُقال أحيانًا إن إيران انتهكت استقلال الدول وسلامتها وسيادتها بهجماتها، وهذا الحكم خاطئ تمامًا. في رأينا، يُحترم استقلال حكومتكم وسلامتها وسيادتها احترامًا كاملًا.

• ما هذا المكان الذي تُقام فيه قاعدة أمريكية في بلد ما؟ مكانٌ يدخله ويخرج منه الأمريكيون ومن يشاؤون، وأحيانًا سجناء من دول أخرى، دون رقابة حرس حدودكم، حيث يفرض حرس الجيش الأمريكي النظام هناك، لا حرسكم، والقاضي الأمريكي هو من يحكم في الجرائم التي تُرتكب هناك، لا قاضيكم، والقانون الأمريكي هو السائد هناك، لا قانونكم، وليس • جيشكم فقط، بل حتى وزير دفاعكم لا يحق له الدخول إلى هناك دون إذن من الحرس الأمريكي.

• إذن، أمريكا هي التي انتهكت سلامة أراضيكم وسيادتكم، لا نحن. نحن نهاجم أراضٍ يحتلها الجيش الأمريكي، وهو جيش لا يعرف إلا الجريمة

• إذن، أمريكا هي التي انتهكت سلامة أراضيكم وسيادتكم، لا نحن. نحن نهاجم أراضٍ يحتلها الجيش الأمريكي، وهو جيش لا يعرف إلا الجريمة.

• في الأيام الماضية، قام أهالي مناب المفجوعون بدفن رفات أبنائهم الطلاب، التي عُثر عليها أثناء البحث تحت الأنقاض، ودفنوها مع بقية الضحايا. كان عددهم 168 طالبًا استشهدوا في اليوم الأول من هذه الحرب في هجوم الجيش الأمريكي القاتل للأطفال. تستمر هذه الجرائم، ويُرتكب بعضها باستخدام قواعد أمريكية على الأراضي الأردنية. من حقنا القانوني والديني والمنطقي استهداف المعتدي على بلادنا وقاتل أطفالنا أينما هاجم.

• نشكركم على تعاونكم.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اردو میں:

یہ پیغام کویتی عوام کے نام پھیجا گیا ہے اور اردن کو بھیجا گیا پیغام بھی اس سے ملتا جلتا ہے:

آپ کی علاقائی سالمیت قابل احترام ہے، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے کویت کے عوام کے نام ایک پیغام میں کہا: بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ سوچ مکمل طور پر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر قابل احترام ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ کا بیان درج ذیل ہے:

کویت کے معزز اور شریف باشندو!

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی میں آپ کے مجاہد بھائیوں نے طفل کُش امریکی فوج کی تعزیر اور آبنائے ہرمز میں اس کی مداخلتوں کے جواب میں، علی السالم ایئر بیس میں اس کے فوجی سازوسامان کے ایک بڑے گودام، ایک پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور ایک MQ9 ڈرون ہینگر کو ڈرون حملے کا نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

آپ کے بھائیوں نے العدیری چھاؤنی میں امریکی فوجیوں کی ایک رہائش گاہ اور ہیلی کاپٹروں کے دو ہینگرز پر بھی حملہ کیا اور جارح فوجیوں کی ایک تعداد کو ہلاک اور زخمی کرنے کے علاوہ، متعدد ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو تباہ یا شدید نقصان پہنچایا۔

مجاہدین نے ایران میں مواصلاتی ٹاورز پر امریکی حملوں کے جواب میں کویت میں ایک امریکی مواصلاتی ٹاور کو بھی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔

بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ایران نے اپنے حملوں سے ممالک کی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے، حالانکہ یہ سوچ مکمل طور پر غلط ہے۔ ہمارے نزدیک آپ کی ریاستی آزادی، علاقائی سالمیت اور خودمختاری مکمل طور پر قابل احترام ہے۔

دوسرے ممالک میں امریکی اڈہ کیسی جگہ ہوگی؟ ایک ایسی جگہ جہاں آپ کی بارڈر کنٹرول کے بغیر امریکی اور ـ جو وہ چاہیں، ـ بعض اوقات دوسرے ممالک کے قیدیوں کو لاتے ہیں اور لے جاتے ہیں؛ ایسی جگہ جہاں امریکی فوج کی ملٹری پولیس نظم و ضبط قائم کرتی ہے نہ کہ آپ کی فوج یا پولیس۔ وہاں ہونے والے جرائم پر امریکی جج فیصلہ کرتا ہے نہ کہ آپ کا جج! وہاں امریکی قانون نافذ ہے نہ کہ آپ کا قانون، نہ صرف آپ کے فوجی بلکہ آپ کا وزیر دفاع بھی امریکی پولیس کی اجازت کے بغیر وہاں داخلے کا مجاز نہیں ہے۔

پس یہ امریکہ ہے جس نے آپ کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر قبضہ کر لیا ہے، نہ کہ ہم۔ ہم ان زمینوں پر حملہ کر رہے ہیں جن پر امریکی فوج نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ایسی فوج جو جرم کے سوا کچھ کرنا نہیں جانتی اور نہیں چاہتی۔

گذشتہ روز، میناب کے سوگوار لوگوں نے اپنے طالب علم بچوں کی لاشوں کے باقی ماندہ ٹکڑوں ـ جو ملبے تلے تلاش کے دوران برآمد ہوئے تھے، ـ کی تشییع کی اور ان لاشوں کو سپرد خاک کیا۔ وہ 168 ننھے طالب علم تھے جو اس جنگ کے پہلے دن طفل کُش امریکی فوج کے حملے میں شہید ہوئے اور یہ جرائم جاری ہیں اور اس کا ایک حصہ کویت کی سرزمین پر امریکی اڈوں کا استعمال کرکے کیا جا رہا ہے اور یہ ہمارا قانونی، شرعی اور منطقی حق ہے کہ ہمارے ملک پر حملہ کرنے والوں اور ہمارے بچوں کے قاتل کو ـ چاہے وہ جہاں بھی ہوں ـ نشانہ بنائیں۔

ہم آپ کے تعاون کے شکرگزار ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha